1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

حیلہ اسقاط

سوال

ہمارے علاقے میں جنازہ کے کچھ لوگ میت کو دفن کرنے کے لیے قبرستان لے جاتے ہیں، اور کچھ لوگ لوگوں میں اسقاط تقسیم کرتے ہیں، لیکن دوئرہ اور حلقہ کی صورت اختیار نہیں کرتے ، اور اس اسقاط کو لازم سمجھتے ہیں، اور جو آدمی یہ نہ کرے اس پر لعن طعن کرتے ہیں، اور کبھی کبھار تو ورثاء کو خبر بھی نہیں ہوتی اور ان کی اجازت کے بغیر یہ اسقاط تقسیم کیا جاتا ہے، کیا شریعت مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟

جواب

          واضح رہے کہ حیلہ اسقاط کی اجازت فقہاء کرام نے ضرورت کے وقت دی ہےکہ اگر کوئی شخص فوت ہو جائے، اور اس کے ذمے کچھ نمازیں اور روزے ہوں ، اور اس نے فدیہ کی  وصیت کی ہو، لیکن اس کے ترکہ کے ثلث مال سے نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا نہ ہو سکتا ہو، یا  وصیت  نہ کی ہو  لیکن  ورثاء استحساناً ادا کرنا چاہتے ہوں، لیکن  رقم کم  ہو، تو فقہاءکرام نے ایسی صورت میں حیلہ اختیار کرنے کی گنجائش درج ذیل شرائط کے ساتھ دی  ہے :

اگر میت نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو، تو ثلث مال سے حیلہ اسقاط کیا جائے۔

اگر وصیت نہ کی ہو، اور ورثاء ترکہ سے حیلہ اسقاط کرنا چاہیں ، تو ضروری ہے کہ تمام ورثاء بالغ ہوں، اور دل سے اس پر راضی ہوں،

اگر کوئی نابالغ وارث ہو، تو اس کے حصےسے حیلہ اسقاط کی رقم نہ لی جائے، بلکہ بالغ ورثاء میں سے جو چاہیں تو ان کے   حصے  سے ادا کی جائے۔

جس کو یہ مال دے رہے ہیں، وہ مستحق ہو ، اور اس مستحق کو مالک بنا کر اس پر قبضہ و اختیار دیا جائے۔

جس فقیر کو دیا جائے، وہ اگر چاہے تو  اپنی مرضی اور دلی رضامندی سے وہ مال میت کے ورثاء کو ہبہ کرے ، اس پر کوئی زور و زبردستی نہ کی جائے۔

اس حیلہ کو اختیار کرنا لازم اور ضروری نہ سمجھا جائے، نہ ہی اسے رسم و رواج بنایا جائے۔

          صورت مسئولہ کے طابق محررہ طریقہ اسقاط ان شرائط  کے مطابق نہیں، اس کو لازم بھی سمجھا جاتا ہے ، اور نہ کرنے والوں پر لعن طعن بھی کیا جاتا ہے، اس لیے  اس سے احتراز و اجتناب لازم ہے۔

 

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطى (من ثلث ماله) ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث، ثم وثم حتى يتم. قال فی الشامیۃ: ثم ينبغي بعد تمام ذلك كله أن يتصدق على الفقراء بشيء من ذلك المال أو بما أوصى به الميت إن كان أوصى.( ردالمحتار مع الدرالختار، کتاب الصلوۃ ، باب قضاءالفوائت، ج:2، ص:532  )


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431705


فتوی پرنٹ