1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

ایزی پیسہ اکاؤنٹ پرملنےوالےفری منٹس اورایس ایم ایس کااستعمال

سوال

اگرکوئی شخص اپنی آسانی کےلیےایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولے،تاکہ  بجلی اورگیس وغیرہ کےبل  اداکرنےمیں آسانی ہوتو اس کےلیےاس کےاکاؤنٹ میں ہزار(1000)روپیہ کاہوناضروری ہےاورمذکورہ رقم کی موجودگی میں کمپنی روزانہ اس کوفری منٹس اورایس ایم ایس وغیرہ دیتی ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ مذکورہ فری منٹس اورایس ایم ایس  کا استعمال شرعادرست ہےیانہیں؟نیزیہ سہولت  سودکےزمرےمیں آتی ہےیانہیں؟ 

جواب

               شرعی  نقطۂ نظرسےقرض  پرمشروط منافع حاصل کرناسودکےزمرےمیں آنےکی وجہ سےحرام ہے۔ ایزی پیسہ اکاؤنٹ اگرچہ ایک ایسی سہولت ہے،جس میں  جمع کردہ رقم سےاکاؤنٹ ہولڈر کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتا ہے، مثلا:بل کی ادائیگی،رقوم کی منتقلی اورایزی  لوڈوغیرہ،تاہم اس میں جمع کردہ رقم کی حیثیت شرعاقرض کی ہوتی ہے، اگر کمپنی اکاؤنٹ ہولڈرکومخصوص رقم،مثلاہزار(1000)روپےاکاؤنٹ میں موجودہونےکی شرط پرفری منٹس اورایس ایم ایس وغیرہ کی سہولیات فراہم کرتی ہو،جب کہ ہزارسےکم رقم ہونےپر مذکورہ سہولت اکاؤنٹ ہولڈر کونہ دیتی ہوتوایسی صورت میں کمپنی کی طرف سےملنی والی سہولیات قرض پر مشروط منافع ہونےکی بناپرسودکےزمرےمیں داخل ہیں ،اس لیے اکاؤنٹ ہولڈرکےلیےمذکورہ منافع استعمال کرنا جائز نہیں۔

 (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به... ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به.  (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، مطلب:كل قرض جرنفعاحرام، ج:7، ص:395، دارالكتب العلمية)

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز.... لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب.(بدائع الصنائع، كتاب القرض، ج:10، ص:597598-، دارالكتب العلمية)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431740


فتوی پرنٹ