1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

ايئرلائن کمپنی کااضافی مراعات پر اخراجات لینا

سوال

بعض ایئرلائن اپنےممالک میں سٹےکی مراعت دیتے وقت ویزا  اور ہوٹل کی سہولت فراہم کرتے ہیں، کیا اسکو ٹکٹ کا ضمیمہ قرار دیکر اضافی اخراجات لیے جاسکتے ہیں؟

جواب

       واضح رہے کہ کسی متعین عوض کے مقابلے میں کسی معلوم منفعت کا معاملہ کرنے کو عقد اجارہ کہتے ہیں ، یعنی عقد اجارہ اس معاملہ کو کہا جاتا ہے جس میں ایک فریق کی طرف سے منفعت کی پیشکش ہو اور دوسرے کی طرف سے معاوضہ اور اجرت۔

      صورت مسئولہ کے مطابق اگر ایئرلائن کمپنی دوران عقد کسٹمر کو پہلے سے وضاحت کردے کہ اضافی مراعات والےٹکٹ کا کرایہ اتنا ہے، اور بغیر مراعات والے ٹکٹ کا کرایہ اتناہے، یا ایئرلائن کمپنی نے وضاحت تو نہ کی ہو،لیکن عرف عام  میں یہ بات معلوم ہوتوایسی صورت میں مراعات کے اضافی اخراجات کوٹکٹ کا ضمیمہ قرار دےکرلینا جائز ہے۔

 

وكل ‌شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده...إلا أن يكون متعارفا؛ لأن العرف قاض على القياس. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب البيوع ، باب البيع الفاسد ، ج:5 ص:116(


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431722


فتوی پرنٹ