1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

غیرشرعی لباس کی تجارت کاحکم

سوال

اگرکوئی شخص زنانہ و مردانہ کپڑوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا  ہےجس میں عورتوں کے غیر شرعی لباس بھی ہوتے ہیں اس طور پر کہ بازو وغیرہ کھلے ہوتے ہیں یا باریک اور چست ہوتے ہیں تو کیا انکی تجارت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے جو چیز تغییر و تبدیل کے بغیر اپنی ذات کے اعتبار سے معصیت کا آلہ ہو تو اس کی خرید و فروخت سے اجتناب کرنا ضروری ہے اور اگر کوئی چیز ایسی ہو کہ اس کا استعمال جائز اور نا جائزدونوں طرح ہو سکتا ہو تو ایسی چیز کی خرید و فروخت شرعا جا ئز ہے اورنا جائزاستعمال کا گنا ہ استعمال کرنے والے کو ہو گا چنانچہ اگر کسی کپڑے کو غیر شرعی طور پر سی لیا گیا ہو تو اجنبی کے سامنے استعمال اگر چہ جائز نہیں  لیکن شوہر کے سامنے خلوت میں ہر طرح کا لباس استعمال کیا جا سکتاہے اس لیے اس کپڑے کے بیچنے کی شرعا گنجا ئش ہے تا ہم جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ نا جائز طور پر استعمال کرے گا تو اس کو بیچنا کراہت سے خالی نہیں ۔

           صورت مسٔولہ کےمطابق خواتین کے کھلےبازو یا باریک اور چست لباس کا فی الجملہ استعمال ممکن ہے اس لئے ایسے  کپڑے کی بیع کی گنجائش ہے لیکن بے  حیا ئی اور عریانی کا پیش خیمہ بننےاورپردہ متاثر ہونے کی وجہ سے فروخت کرنا چونکہ معصیت کےساتھ تعاون کرنے کے مترادف ہےاس لئے اس طرح کی تجارت سے اجتناب کرنا چاہیےالبتہ اگر اس لباس کے ساتھ دوسرا کپڑا جیسے شمیز وغیرہ بھی استعمال ہوتا ہو جس میں پردے کی رعایت ہو تو پھر اس کی بیع میں کوئی حرج نہیں ۔

 

مَا ‌قَامَتْ ‌الْمَعْصِيَةُ بِعَيْنِهِ يُكْرَه بَيْعُهُ تَحْرِيمًا وَإِلَّا فَتَنْزِيهًا۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظر والإباحة،ج:9،ص:561)

لَا ‌يُكْرَهُ ‌بَيْعُ ‌الْجَارِيَةِ الْمُغَنِّيَةِ وَالْكَبْشِ النَّطُوحِ وَالدِّيكِ الْمُقَاتِلِ وَالْحَمَامَةِ الطَّيَّارَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَيْنُهَا مُنْكَرًا وَإِنَّمَا الْمُنْكَرُ فِي اسْتِعْمَالِهِ الْمَحْظُورِ۔(تبیین الحقائق،کتاب السیر،باب البغاۃ،ج:4،ص:199)

بيع ‌الزنار ‌من ‌النصارى والقلنسوة من المجوس لا يكره وبيع المكعب المفضض من الرجل إذا علم أنه اشتراه للبس يكره۔( الفتاوى الھندیة، کتاب البیوع،ج:3،ص:197)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431721


فتوی پرنٹ