1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

صلاة اوابين

سوال

صلاة اوابین كا طریقہ اور اس  کا کتنا ثواب ہے؟

جواب

          مغرب كے بعد  چھ  رکعت  نفل پڑھنے  کو  "صلاۃ الاوابین " کہتے ہیں ۔اس کی وجہ وہ حدیث ہے  جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو شخص مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعت پڑھے وہ اوابین(گناہ کے بعد فورا توبہ کرنے والوں ) میں شمار کیا جائے گا۔ ان کی کم از کم تعداد  چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہے۔ اوابین کی نماز کا طریقہ وہی ہے جو عام نوافل کا ہے، اور اوابین کی  چھ رکعات،دو ،دو رکعات کرکے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔

         اوابین کی فضیلت  کے بارے میں سنن  ترمذی میں حضرت ابو ہریر رضی اللہ  عنہ سے رسول اللہ ﷺ  کا یہ ارشاد  منقول ہے کہ: ’’جو شخص نماز مغرب کے بعد چھ رکعات (اوابین کی نماز) پڑھے گا، اور ان کے درمیان کوئی غلط بات زبان سے نہ نکالے گا تو یہ چھ رکعات ثواب میں اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار پائیں گے" ۔

 

"عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنةً۔ (سنن الترمذي، كتاب الصلاة،باب منه آخر،فضل التطوع وست ركعات بعد الموت، ج:2،ص:298، دار إحياء التراث العربي - بيروت) 

( و ) ندب ( ست ) ركعات ( بعد المغرب ) لقوله صلى الله عليه و سلم " من صلى بعد المغرب ست ركعات كتب من الأوابين  وتلا قوله تعالى أنه كان للأوابين غفورا " والأواب هو الذي إذا أذنب ذنبا بادر إلى التوبة ۔ (مراقي الفلاح، كتاب الصلوة،فصل في بيان النوافل،ص:318)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431812


فتوی پرنٹ