1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

جواز جمعہ میں فتنہ کے خوف سے دوسرے مذہب پر عمل کرنا

سوال

جہاں شرائط مفقود ہونے کے باوجود نماز جمعہ شروع ہو چکا ہے اس کے ختم کرنے یا باقی رکھنے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟كيا ايسے مسئلے ميں امام شافعى -رحمہ اللہ تعالی- کے مسلک پر عمل کیا جاسکتا ہے؟

جواب

             فقہاے کرام کے نزدیک جمعہ کی ادائیگی شرائط پر موقوف ہے اور جہاں شرائط مفقود ہوں، وہاں نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔ اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز جمعہ شروع ہو چکی ہو ، تو علما کو چاہیے کہ ان کو حکمت کےساتھ  یہ مسئلہ سمجھائیں اور ان کو نماز جمعہ کی بجائے ظہر پڑھنے کی تاکید کریں ، لیکن اس کے باوجود اگر وہ لوگ اپنے اس فعل پر ڈٹے رہیں اور منع کرنے سے ان کا آپس میں انتشار  وفتنہ برپا ہونے کا خطرہ ہوتو ایسی جگہ میں لوگوں کو منع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اگر وہاں  چالیس افرادموجود ہوں تو   ایسی صورت میں فتنہ انگیزی سے بہتر ہے کہ دوسرے فقہاے کرام کے اقوال کا سہارا لے کر مسلمانوں کو افتراق اور انتشار سے بچایا جائے ۔

 

لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ ( بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

وقال الشيخ عبد الرحمن العمادي رحمه الله تعالى في مقدمته: إعلم أنه يجوز للحنفي تقليد غير إمامه من الأئمة الثلاثة رضي الله عنه فيما تدعو إليه الضرورة بشرط أن يلتزم جميع ما يوجبه ذلك الإمام في ذلك۔(خلاصة التحقيق في بيان حكم التقليد والتلفيق لعبد الغني النابلسي، ص:22)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431811


فتوی پرنٹ