1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

اعوان قوم کے لیے زکاۃ لینے کا حکم

سوال

ایک بندہ ہےجو اعوان قوم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس نے سنا ہے کہ اعوان قوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے۔اگر یہ واقعی اسی طرح ہے تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ اس نے بہت زیادہ زکاۃ لی ہے اب جو زکاۃ اس نے لی ہے اس کاکیا حکم ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ اعوان قوم سے متعلق ہمیں مکمل تحقیق نہیں کہ یہ سادات میں سے ہے یا نہیں ۔ اگر اعوان قوم کا سلسلہ نسب بہ واسطہ محمد بن الحنفیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہو (جیسا کہ مشہور ہے)اور ان کے پاس اس سلسلہ میں مستند شجرہ نسب بھی موجود ہو تو یہ سادات میں سے شمار ہوں گے اور سادات ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ان کو زکاۃ دینا اور ان کا زکاۃ لینا جائز نہ ہوگا۔ اور سادات ہونے کی صورت میں جو زکاۃ انہوں نےلا علمی کی وجہ سے پہلے لی تھی وہ ان کے حق میں نفلی صدقہ شمار ہوگی اور آئندہ ان کے لیے زکاۃ لینا جائز نہیں ہوگا۔اور اگر یہ محض سنی سنائی بات ہو اورکوئی  مشہور شجرہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ان پر سادات کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اور اس صورت میں اگر زکاۃ کے مستحق ہوں تو زکاۃ دینا جائز ہوگا۔

 

أن معن بن يزيد رضي الله عنه حدثه، قال: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وأبي وجدي، وخطب علي، فأنكحني وخاصمت إليه، وكان أبي يزيد أخرج دنانير يتصدق بها، فوضعها عند رجل في المسجد، فجئت فأخذتها، فأتيته بها فقال: والله ما إياك أردت، فخاصمته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «لك ما نويت يا يزيد، ولك ما أخذت يا معن»۔(صحيح البخاري،باب إذاتصدّق على ابنه وهو لايشعر،ج:1،ص:384)

" ولا تدفع إلى بني هاشم " لقوله عليه الصلاة والسلام " يا بني هاشم إن الله تعالى حرم عليكم غسالة الناس وأوساخهم۔۔۔ " وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب۔"(الهداية،كتاب الزكاة،باب من يجوزدفع الصدقات إليه ومن لا يجوز،ج:1،ص:223)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431804


فتوی پرنٹ