1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

شکی مزاج آدمی کی طلاق کا حکم

سوال

بندہ کو ہر وقت طلاق کے وسوسے آتے ہیں،اور  جب طلاق کے وسوسے آتے ہیں،تو ان سے خلاصی کےلیے دل ہی دل میں طلاق کی نیت سے کہتا ہوں،ایک مرتبہ میں کسی سے بات کر رہا تھا ،تو طلاق کے وسوسوں سے خلاصی کےلیےبے دھیانی میں طلاق کے الفاظ زبان سے جاری ہو گئے،در حقیقت میری یہ نیت نہیں تھی کیونکہ میں ایسا فعل کرہی  نہیں سکتا،اب کیا کروں اس کی وضاحت کریں تا کہ دل کو تسلی ہو،کیونکہ حدیث میں ہے کہ طلاق کے متعلق مذاق بھی درست نہیں،دل میں شیطان  سے مذاق کر رہا تھاتا کہ اس کو تکلیف ہوں  جبکہ یہ بات طلاق کی نیت سےزبان پر جاری ہو گئی،اور در حقیقت میری ایسی نیت نہیں تھی؟

جواب

                واضح رہے کہ شک اور وسوسہ کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی،اسی طرح  صرف طلاق کے الفاظ کہنے سے بھی طلاق واقع  نہیں ہوتی بلکہ طلاق کےلیے ضروری ہےکہ باقاعدہ بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئےطلاق کے الفاظ کہے جائیں۔

                صورت مسٔولہ میں اگرسائل کے بیان کےمطابق سائل کو بار بار طلاق کا وسوسہ آتا ہو،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی،اس طرح  اس نے جو طلاق کے الفاظ کہے ہیں،اگر اس نے باقاعدہ بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق کے الفاظ کہے ہوں تو طلاق واقع ہو گئی ہے،ورنہ صرف طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

 

وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس(الدر المختار مع رد المحتار،باب المرتد:ج4،ص:224)

 (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الطلاق:ج:3،ص373)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431803


فتوی پرنٹ