1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

عرشمان اورعیفان نام رکھنا

سوال

عرشمان اور عیفان کے کیا معنی ہے اور لڑکے کے ليے یہ نام رکھنا  درست ہے یا نہیں؟

جواب

          والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کےلیےاچھا نام  تجویز کریں، نام رکھنےمیں  معنی  کی رعایت رکھناضروری  ہے کیونکہ اچھے اور با معنی نام کا اثر اچهاہوتا ہے اور برے نام کا اثر برا۔ چنانچہ اگر ایسا نام رکھا گیا ہو جو معنی کے لحاظ سے اچھا نہ ہو تو اس کوتبدیل کرنا  چاہیے، کیونکہ نام کی تبدیلی حضور﷐کے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت زینب ﷟کا نام برہ تھا آپ﷐نے تبدیل کر کے   زینب رکھ دیا۔

          لفظ "عرشمان "میں عرش  عربی زبان  کا لفظ ہے اس کے معانی چھت،تخت وغيرہ کے آتے ہیں ۔ "مان "سنسکرت اور اردو زبان کا لفظ ہے اس کے معانی گھمنڈ،غرور وتکبر ،قدرومنزلت کے آتے ہیں ۔

اسی طرح  "عیفان "عربی زبان کا لفظ ہے  جو مادہ  ع،ی،ف کا مصدر ہے اس کا معنی ہے "کھانے پینے کی  کوئی چیز نا پسند کرکے اس کو چھوڑنا"

یہ دونوں نام معنی کے اعتبار سےاچھےنہیں،اس لیےیہ نام نہیں رکھنے چاہیےاس کی بجائے انبیائےکرام ﷩،صحابہ کرام ﷡تابعین اورصلحائےامت ﷭کے ناموں کی طرح نام یا کوئی اوراچھا با معنی نام رکھنے كا اہتمام كرناچاہیے۔

 

عن أبي هريرة:أن زينب كان اسمها برة، فقيل: تزكي نفسها، فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم­- زينب۔ (الصحيح للبخاري،كتاب الأدب،باب تحويل الاسم إلی الاسم هو أحسن منه،ج2،ص:441)

عاف الشيء يعافه عيفا وعيافة وعيافا وعيفانا كرهه فلم يشربه طعاما أو شرابا قال ابن سيدة قد غلب على كراهية الطعام فهو عائف۔۔۔وجب العياف ضربت أو لم تضرب ورجل عيوف وعيفان عائف (لسان العرب،ج:9،ص: 500)

عرش:چھت،تخت (فیروزاللغات اردوجدید،ص:480)

مان: گھمنڈ،غرور وتکبر ،قدرومنزلت (فیروزاللغات اردوجدید،ص:610)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431789


فتوی پرنٹ