1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

زندگی میں اولاد پر جائیداد تقسیم کرنا

سوال

 ایک شخص اپنی جائیداد زندگی میں اپنے بچوں کے درمیان میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کرنا چاہتاہے، جس کے سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ شریعت کے مطابق راہنمائی فرمائیں۔

جواب

          اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اس میں بہتر یہی ہے کہ  تمام اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) کو برابر حصہ دیا جائے،کیوں کہ زندگی میں اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا شرعا ہبہ کے حکم میں داخل ہے ، اور ہبہ کے معاملے میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے۔ تا ہم میراث کے اصول کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں کا دگنا دینا بھی جائزہےنیز اگر کوئی بچہ معذور ہو ، یا  زیادہ محتا ج ہو، یا زیادہ تابع داراور خدمت گزار   ہو، یا زیادہ دین دار ہو تو ایسی صورت میں ترجیحی سلوک کی گنجاِش ہے۔

          صورت مسئولہ کےمطابق اگر کوئی شخص حالت صحت میں اپنی جائیداد کو اولاد پر تقسیم کرنا چاہتا ہے تو بہتر یہ ہےکہ تمام اولاد(بیٹوں اور بیٹیوں) کو برابر حصہ دے دے، اور اگر اصول میراث کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں کا دگنا حصہ دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى{إن الله يأمر بالعدل والإحسان} وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى، وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين.(بدائع الصنائع،کتاب الهبة،ج:8، ص:113)

وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ۔ (البحر الرائق،کتاب الهبة، ج:7، ص:290)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431788


فتوی پرنٹ