1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

ٹھنڈاہونےسےپہلےتڑپنےکی حالت میں مچھلیوں کوپکانا

سوال

ہم مچھلیوں کوتالاب سےپکڑتےہیں،اورٹھنڈاہونےسےپہلےتڑپنے کی حالت میں ان کوٹکڑےٹکڑےکرکےپکاتےہیں،کیاشرعایہ عمل  جائزہے؟

جواب

            شرعی نقطۂ نظرسےذبح کی حالت میں جانورکوضرورت سےزیادہ تکلیف پہنچانامکروہ ہے،جیسے:ٹھنڈاہونےسےپہلےاس کی کھال اتارنااورسر جداکرنایامروڑناوغیرہ۔لہذاصورتِ مسؤلہ میں مچھلیوں کوٹھنڈاہونےسےپہلےتڑپنےکی حالت میں ٹکڑےٹکڑےکرنےاورپکانےمیں چونکہ ان کوضرورت سےزیادہ تکلیف دینا ہے،اس وجہ سے یہ عمل مکروہ ہے۔

 

والحاصل أن ما فيه زيادة إيلام لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه ويكره أن يجر ما يريد ذبحه برجله إلى المذبح وأن تنخع الشاة قبل أن تبرد يعني تسكن من الاضطراب وبعده لا ألم فلا يكره النخع والسلخ إلا أن الكراهة لمعنى زائد وهو زيادة الألم قبل الذبح أو بعده.(الھدایة،کتاب الذبائح،ج7ص141)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431782


فتوی پرنٹ