1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

مروجہ پگڑی کا حکم

سوال

 مالکِ دکان جس کو دکان کرایہ پر دینا چاہتا ہے تو اس سے ایڈونس میں پگڑی کی صورت میں رقم لیتا ہے ،مثلاً لاکھ یا دو لاکھ روپے ۔تو کیا مالکِ مکان کا اس طرح پگڑی پر دکان دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

          آج کل پگڑی کے نام سے کرایہ دار اور مالکِ مکان باہم ایک معاملہ طے کرتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی مکان یا دکان کو جب کرایہ دیا جاتا ہے تو مالکِ مکان و دکان کرایہ دار سے ماہانہ اجرت کے علاوہ کچھ رقم یکمشت حاصل کرلیتا ہے ،اس رقم کی ادائیگی کے بعد کرایہ دار اس بات کا حق دار ہوتا ہے کہ وہ تاحیات اس میں رہے ۔گویا کہ مالکِ مکان نے بحیثیتِ مالک اپنے مکان کو کرایہ دار سے واپس لینے کے حق سے دست برداری کا عوض وصول کرلیا، جو حقوقِ مجردہ کی فہرست میں داخل ہے اوراس طرح کےحقوقِ مجردہ کی خرید و فروخت اور اس کا عوض لینا شرعاً جائز نہیں۔

           لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی مکان یا دکان کرایہ پر دیا جائے اور مالکِ مکان مروجہ پگڑی کے نام پر اصل ماہوار کرایہ کے علاوہ بھی یکمشت رقم کرایہ دار سے وصول کرکے، اس کی بنا پر کرایہ دار کو اس بات کا حق دیدےکہ وہ اس میں تاحیات رہےاورمالک کے لیے مکان یا دکان کو واپس لینے کے حق کو ختم کیا جائےتویہ شرعاً جائز نہیں۔

 

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف۔(الدرالمختار على صدر ردالمحتار ، كتاب البيوع ، مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة ، ج:7 ص: 35)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431712


فتوی پرنٹ