1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

غسل دیتے وقت عورت کے بدن کو ڈهانكنا

سوال

 كوئی عورت فوت ہو جائے تو  غسل دیتے اس کے پورے بدن کو ڈھانکا جائیگایا بعض بدن کو؟

جواب

                واضح رہے کہ مرد کو غسل دینے کا جو طریقہ ہے وہی طریقہ عورت کے غسل کا بھی ہے  یعنی غسل ديتے وقت كپڑوں كا نكالنا ضروری ہے ،البتہ مرد کومرد غسل دیں گے اور عورت کو عورت غسل دے گی ، نیزعورت کا عورت  سے  پردہ وہی ہے جو مرد کا مرد سے ہے یعنی ایک مرد کا دوسرے مرد سے ستر ناف سے لے کر گھنٹوں تک ہے ، اس کے علاوہ دیگر اعضا کو دیکھنا جائز ہے۔یہی حکم ایک عورت کا دوسری عورت کے حق میں بھی ہے یعنی ایک عورت دوسری عورت کے ناف سے لے کر گھنٹوں تک بدن نہیں دیکھ سکتی باقی بدن دیکھ سکتی ہے۔

            لہذا صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی عورت  وفات پا جائے تو غسل دیتے وقت صرف اس کے ناف سے لیکر گھنٹوں تک اس کا بدن ڈهانکا جائے گا، باقی بدن چونکہ غسل دینے والی  عورت  کے حق میں ستر نہیں ہے اس لیے اس کو ڈھانکنا ضروری نہیں ، البتہ یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ غسل کسی ایسی جگہ دیا جائے جہاں غسل دینے والی عورت کے علاوہ بلا ضرورت خواتین نہ ہوں۔

 

اجتمعت الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين أن السنّة في سائر الموتى التجريد، والمعنى فيه وهو أن هذا غسل واجب فلا يقام مع الثياب اعتباراً بحالة الحياة، وهذا لأن المقصود من الغسل هو التطهر، والتطهير لا يحصل إذا غسل مع ثيابه۔ (المحيط البرهاني، کتاب الصلاة، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، ج:2، ص:280)

وتستر عورته بخرقة؛ لأن حرمة النظر إلى العورة باقية بعد الموت۔۔۔ ثم الخرقة ينبغي أن تكون ساترة ما بين السرة إلى الركبة۔ (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان كيفية غسل الميت، ج:1، ص:309)

حكم المرأة في الغسل حكم الرجل۔ (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان كيفية غسل الميت، ج:1، س:312)

قال: "وتنظر المرأة من المرأة إلى ما يجوز للرجل أن ينظر إليه من الرجل (الهداية، كتاب الكراهية، فصل في الوطء والنظر والمس، ج:7، ص:203)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431699


فتوی پرنٹ