1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کرنا

سوال

ہمارے محلہ میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے،جس میں کبھی کبھار اتنی جگہ نہیں ہوتی جس میں سجدہ لگایا جا سکے،تو کیاہم دوسرے نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

         واضح رہے کہ سجدہ نماز کے ارکان میں سے ہے۔ جس طرح شرعی عذر نماز میں  معتبر ہے ،اسی طرح سجدہ میں بھی معتبر ہوگا۔لہذا اگرایسی صورت پیش آئے کہ مسجد میں جماعت کے دوران نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے زمین پر سجدہ نہ کیا جاسکتا ہو تو پھر دوسرے نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کیا جاسکتا ہے،لیکن ایسا کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ دونوں کی نماز ایک ہو۔البتہ بہتریہ ہے کہ اگر دوسری مسجد میں جماعت ملنے کا امکان ہو تو وہا ں جاکر نماز ادا کرے یا انتظار کرکے اکیلے نما ز ادا کرے ۔

 

ولو سجد على ظهر رجل،وهو في الصلوة،يجوز۔فإن لم يكن ذلك الرجل في الصلوة،أو ليس في صلوته لا يجوز۔(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،الباب الرابع في صفة الصلاة،70/1)

(وإن سجد للزحام على ظهر)هل هو قيد احترازي لم أره(مصل صلاته)التي هو فيها(جاز) للضرورة(وإن لم يصلها)بل صلى غيرها أو لم يصل أصلا أو كان فرجة(لا)يصح۔ قال ابن عابدينؒ:وفي الكلام إشارة إلى أن المستحب التأخيرإلى أن يزول الزحام كما في الجلابي۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،209/2)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431817


فتوی پرنٹ